ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ خود کشی معاملہ؛ آر ایس ایس کارکن پروین کھانڈیا کی پیشگی ضمانت منظور

ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ خود کشی معاملہ؛ آر ایس ایس کارکن پروین کھانڈیا کی پیشگی ضمانت منظور

Sat, 24 Dec 2016 00:05:43    S.O. News Service

بنگلورو۔23/دسمبر(ایس او نیوز) اغوا اور پھروتی کی وصولی کے الزامات میں خود کشی کرنے والے چکمگلور کے ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ کے کیس میں گرفتار کلیدی ملزم کھانڈیا پروین کو ہائی کورٹ نے پیشگی ضمانت کو منظوری دے دی ہے۔ سرکاری وکیلوں کی طرف سے اس استدلال کے باوجود کہ اس کے خلاف اور بھی بہت سارے مقدمات ہیں، عدالت نے پروین کھانڈیا کے اس بیان کو درست مانا کہ پولیس اسے غیر ضروری طور پر ہراساں کرسکتی ہے۔ اسی لئے اسے ضمانت دی جائے۔ پروین کھانڈیا نے خود کو ایک سماجی کارکن قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ  گؤ کشی اور تبدیلی ئ مذہب کے خلاف مہم چلا رہاہے۔پولیس کی طرف سے اسے غیر ضروری طور پر مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ سرکاری وکیلوں نے بتایاکہ 28 جون کو ایچ ایم تیجس نامی ایک شخص کا اغوا کیا گیا اور اسے غیر ضروری طور پر مقید رکھا گیا۔ اس کی طرف سے نٹراج کے پاس سے لئے گئے 28لاکھ روپے لوٹانے کیلئے اسے دھمکایا گیا اور ساتھ ہی قید کے دوران اسے تکلیفیں بھی دی گئیں۔ تیجس سے اس کے دوست کو فون کروایا گیا کہ فوری طور پر رہائی کیلئے دس لاکھ روپیوں کا انتظام کیا جائے، یہ رقم ڈی وائی ایس پی کلپا ہنڈی باگ کو پہنچائی گئی، اس کے بعد کچھ دنوں تک لاپتہ رہنے کے بعد ہنڈی باگ نے خود کشی کرلی۔حال ہی میں ہنڈی باگ کے بھائی نے بھی اسی معاملے میں خود کشی کرلی۔اس سارے معاملہ کا سرغنہ پروین کھانڈیا قرار پایا گیا۔ تاہم سرکاری وکیلوں کے ان تمام دلائل کو نظر انداز کرتے ہوئے جسٹس رتنا کلا نے پروین کی ضمانت منظور کرلی۔ سرکاری وکیل وجئے کمار نے ضمانت پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ پروین ایک پیشہ ورانہ مجرم ہے، چکمگلور کی عدالت میں اس پر درج ایک فوجداری مقدمہ میں وہ اب تک حاضر نہیں ہوا ہے۔اس کے علاوہ اس پر اور بھی بہت سارے فوجداری مقدمے زیر سماعت ہیں۔ کئی معاملات میں اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری ہوئے ہیں۔اسی لئے اسے ضمانت نہ دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی اغوا کیلئے اس کیس میں جو پھروتی کی رقم لی گئی تھی اب پولیس نے وہ رقم ضبط نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں کھانڈیا سے پوچھ تاچھ بھی ہونی چاہئے۔ ان تمام دلائل کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے جسٹس رتنا کلا نے پروین کھانڈیا کی ضمانت منظور کرلی اور پولیس کو یہ موقع دیا کہ وہ اونچی عدالت میں اس حکم کا چیلنج کرسکتی ہے۔ 


Share: